عثمان بن أبي العاص

حضرت عثمان بن ابی العاص

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ولادت
تقریباً 605 عیسوی
وفات
— · —
قبیلہ
بنو ثقیف (طائف)

ثقیف کا وفد

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ 9 ہجری میں نبی کریم ﷺ کے پاس آنے والے ثقیف کے وفد کے سب سے کم عمر فرد تھے۔ انہوں نے چار رعایتیں مانگیں؛ نبی کریم ﷺ نے تین عطا فرما دیں لیکن نماز سے استثنیٰ کی درخواست رد کر دی — یہ ارشاد فرماتے ہوئے کہ “اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں رکوع نہ ہو۔” پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: “اے رسول اللہ ﷺ، مجھے قرآن کریم تعلیم فرمائیں اور مجھے میری قوم کا امام بنا دیں۔“ 1 حیاتُ الصحابہ · Vol 1 · pp. 205 — کاندھلوی — ثقیف کے وفد میں عثمان بن ابی العاص؛ وہ نبی کریم ﷺ سے قرآن تعلیم فرمانے اور اپنی قوم کا امام بنانے کی درخواست کرتے ہیں۔

طائف کے گورنر

نبی کریم ﷺ نے انہیں طائف کے لوگوں کی امامت اور قیادت پر مقرر فرمایا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہحضرت ابو بکر صدیقرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُپہلے خلیفہ؛ نبی کریم ﷺ کے سب سے قریبی ساتھیKhulafa Rashidun · Ashara Mubashara · Muhajirun نے اپنی خلافت میں بھی انہیں طائف کا گورنر برقرار رکھا۔ 2 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 317 — نجیب آبادی — حضرت ابو بکر کی خلافت میں عثمان بن ابی العاص طائف کے گورنر۔ آپ بعد میں بصرہ منتقل ہو گئے، جہاں آپ نے وفات پائی۔

۞

حیات کا خاکہ

تقریباً 605 عیسوی

بنو ثقیف سے تعلق

9 ہجری

ثقیف کے وفد کے ساتھ آئے

نبی کریم ﷺ نے انہیں قرآن کریم تعلیم فرمایا اور اپنی قوم کا امام بنایا۔

حضرت ابو بکر کی خلافت

طائف کے گورنر

حوالہ جات

  • حیاتُ الصحابہ — کاندھلوی — ثقیف کے وفد میں عثمان؛ مذاکرات؛ وہ اپنی قوم کا امام بنائے جانے کی درخواست کرتے ہیں جلد 1 · صفحہ 205
  • تاریخِ اسلام — نجیب آبادی — حضرت ابو بکر کے دور میں عثمان بن ابی العاص طائف کے گورنر جلد 1 · صفحہ 317