دارِ ارقم میں نام کی تبدیلی
حضرت عاقل بن البکیر رضی اللہ عنہ بنو لیث کے چار بھائیوں — خالد، عامر، عاقل اور ایاس — میں سے ایک تھے جنہوں نے ابتدائی دور میں دارِ ارقم رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُحضرت ارقم بن ابی الارقمرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُآپ کا گھر (دار الارقم) مکہ میں اسلام کا پہلا مرکز بنا میں اسلام قبول فرمایا۔ آپ کا نام غافل — یعنی “غفلت میں رہنے والا” — تھا، اور نبی کریم ﷺ نے بدل کر عاقل یعنی “ذہین اور بیدار” رکھا۔ 1 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 1 · pp. 49, 273 — ادریس کاندھلویؒ — حضرت عاقل دارِ ارقم میں ابتدائی مسلمانوں میں؛ نبی کریم ﷺ نے آپ کا نام غافل سے بدل کر عاقل رکھا۔
بدر میں شہادت
آپ نے اپنے بھائیوں کے ہمراہ حضرت عمر رضی اللہ عنہحضرت عمر بن الخطابرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُدوسرے خلیفہ؛ الفاروق، جنہوں نے اسلامی ریاست کو وسعت بخشی کی ہجرت کے قافلے میں ہجرت فرمائی، مدینہ منورہ میں آپ کی مواخات حضرت مبشر بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کرائی گئی، اور آپ نے چونتیس برس کی عمر میں بدر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ 2 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 1 · pp. 198, 273 — ادریس کاندھلویؒ — حضرت عاقل کی مواخات حضرت مبشر کے ساتھ؛ چونتیس سال کی عمر میں بدر میں شہادت۔
حیات کا خاکہ
بنو لیث میں ولادت ہوئی
چار بھائیوں میں سے ایک — خالد، عامر، عاقل، ایاس۔
دارِ ارقم میں اسلام قبول فرمایا
نبی کریم ﷺ نے آپ کا نام غافل سے بدل کر عاقل رکھا۔
مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی
غزوہ بدر میں جامِ شہادت نوش فرمایا — چونتیس برس کی عمر میں
حوالہ جات
- سیرتِ مصطفیٰ — ادریس کاندھلویؒ — حضرت عاقل دارِ ارقم میں ابتدائی مسلمانوں میں؛ نام کی تبدیلی؛ چونتیس سال کی عمر میں بدر میں شہادت جلد 1 · صفحہ 49, 198, 273