دار الارقم — اسلام کا پہلا گھر
حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ بنو مخزوم سے تعلق رکھتے تھے اور سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں شامل تھے۔ آپ کا گھر کوہِ صفا کے دامن میں واقع تھا اور یہی دین کا پہلا مرکز بنا: یہاں نبی کریم ﷺ مومنوں کو جمع فرماتے، قرآنِ کریم کی تعلیم دیتے، اور ہر نیا قبول کرنے والا یہاں آ کر سیکھتا — تقریباً تین سال تک یہ پوری دعوت کا خفیہ مرکز رہا۔ 1 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 109 — نجیب آبادی — نبی کریم ﷺ نے صفا کے دامن میں ارقم کے گھر کو تقریباً تین سال تک اسلام کا پہلا تعلیمی مرکز بنایا۔ مسلمان وہاں خفیہ طور پر اس وقت تک ملتے رہے جب تک حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہحضرت عمر بن الخطابرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُدوسرے خلیفہ؛ الفاروق، جنہوں نے اسلامی ریاست کو وسعت بخشی نے اسلام قبول نہ فرمایا، جس کے بعد وہ کھلے عام اجتماع کرنے کے قابل ہو گئے۔ 2 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 1 · pp. 58 — ادریس کاندھلوی — مسلمان دار الارقم میں خفیہ طور پر جمع ہوتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمر کے قبولِ اسلام نے کھلے عام عبادت کا موقع فراہم کیا۔ اسی فضیلت کی بنا پر ارقم کا گھر امت کی یادداشت میں ایک مقامِ عظمت رکھتا ہے۔
حیات کا خاکہ
مکہ مکرمہ میں ولادت
بنو مخزوم سے تعلق؛ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں شامل۔
آپ کا گھر دار الارقم بنا
تقریباً تین سال تک نبی کریم ﷺ کی تعلیم کا مرکز رہا۔
مدینہ منورہ میں وفات
حوالہ جات
- تاریخِ اسلام — نجیب آبادی — نبی کریم ﷺ نے صفا کے دامن میں ارقم کے گھر کو پہلا تعلیمی مرکز بنایا جلد 1 · صفحہ 109
- سیرتِ مصطفیٰ — ادریس کاندھلوی — مسلمان حضرت عمر کے قبولِ اسلام تک دار الارقم میں خفیہ طور پر جمع ہوتے رہے جلد 1 · صفحہ 58