الشيماء بنت الحارث

حضرت شیماء بنت الحارث

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
ولادت
وفات
— · —
قبیلہ
بنو سعد بن بکر (ہوازن)

کاندھے کے نشان سے پہچان

غزوہ حنین (8 ہجری) کے بعد حضرت شیماء رضی اللہ عنہا قید ہو کر نبی کریم ﷺ کے سامنے لائی گئیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ آپ ﷺ کی رضاعی بہن ہیں، اور اپنے کاندھے پر بچپن کا کاٹے کا نشان دکھایا — جب وہ آپ ﷺ کو بچپن میں اٹھایا کرتی تھیں۔ 1 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 227 — نجیب آبادی — شیماء کو کاندھے کے کاٹے کے نشان سے پہچانا گیا جو نبی کریم ﷺ کو بچپن میں اٹھانے کا نشان تھا۔

نبی کریم ﷺ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، آپ ﷺ نے اپنی چادر بچھا کر انہیں بٹھایا، اور اونٹ، بکریاں اور خادم عطا فرما کر ان کے قبیلے کی طرف واپس بھیج دیا۔ 2 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 3 · pp. 87–88 — ادریس کاندھلوی — نبی کریم ﷺ کی آنکھیں اشکبار ہوئیں؛ شیماء کو چادر پر بٹھایا؛ اونٹ، بکریاں اور خادم عطا فرمائے۔

۞

حیات کا خاکہ

8 ہجری / حنین

قید ہو کر نبی کریم ﷺ کے سامنے لائی گئیں؛ آپ ﷺ نے کاندھے کے نشان سے پہچانا

حوالہ جات

  • تاریخِ اسلام — نجیب آبادی — حنین میں شیماء کی گرفتاری؛ کاندھے کے کاٹے کے نشان سے پہچان؛ اعزاز اور تحائف کے ساتھ واپسی جلد 1 · صفحہ 227
  • سیرتِ مصطفیٰ — ادریس کاندھلوی — رضاعی بہن شیماء بنت الحارث؛ نبی کریم ﷺ کی آنکھیں اشکبار ہوئیں؛ چادر پر بٹھایا؛ تحائف عطا فرمائے جلد 3 · صفحہ 87–88