‘اے ساریہ، پہاڑ!’
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہحضرت عمر بن الخطابرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُدوسرے خلیفہ؛ الفاروق، جنہوں نے اسلامی ریاست کو وسعت بخشی مدینہ منورہ کے منبر پر جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک خطبہ روک کر تین بار پکار اٹھے: “اے ساریہ — پہاڑ! پہاڑ!” — یہ کلمات سننے والوں کے لیے حیران کن تھے، کیونکہ شہر میں کوئی ساریہ نام کا شخص موجود نہ تھا۔ 1 حیاتُ الصحابہ · Vol 3 · pp. 565 — کاندھلوی — حضرت عمر اچانک مدینہ کے منبر سے 'اے ساریہ، پہاڑ!' پکارتے ہیں۔ دریافت کرنے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہحضرت عمر بن الخطابرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُدوسرے خلیفہ؛ الفاروق، جنہوں نے اسلامی ریاست کو وسعت بخشی نے ارشاد فرمایا کہ آپ کو — اپنی نگاہ میں — دور فارس میں ایک پہاڑ کے پاس مسلمانوں پر آگے اور پیچھے سے حملہ ہوتے دکھائی دیا، اور آپ پکارے بغیر نہ رہ سکے۔
میدان سے آنے والا خط
ایک ماہ بعد خود حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کا خط آیا: عین حضرت عمر رضی اللہ عنہحضرت عمر بن الخطابرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُدوسرے خلیفہ؛ الفاروق، جنہوں نے اسلامی ریاست کو وسعت بخشی کے جمعہ کے خطبے کی گھڑی میں، ان کا لشکر دشمن کے دباؤ میں آیا ہوا تھا کہ انہوں نے دو بار ایک آواز سنی، جو پکار رہی تھی: “اے ساریہ، پہاڑ!” انہوں نے پہاڑ کی طرف پیٹھ کر لی، جنگ جاری رکھی، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔ 2 حیاتُ الصحابہ · Vol 3 · pp. 566 — کاندھلوی — حضرت ساریہ کے خط سے تصدیق ہوتی ہے کہ لشکر نے حضرت عمر کی آواز سنی اور اسی گھڑی جنگ جیتی۔ 3 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 374–375 — نجیب آبادی — حضرت عمر کے کلمات میدان میں حضرت ساریہ کے لشکر تک پہنچتے ہیں؛ فتح عطا کی گئی۔
حیات کا خاکہ
فارس میں مسلمان کمانڈر
'اے ساریہ، پہاڑ!' — حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز کا پہنچنا
حوالہ جات
- حیاتُ الصحابہ — کاندھلوی — حضرت عمر منبر سے تین بار 'اے ساریہ، پہاڑ!' پکارتے ہیں؛ حضرت ساریہ کے خط سے تصدیق ہوتی ہے کہ لشکر نے یہ آواز سنی اور فتح حاصل کی جلد 3 · صفحہ 565–566
- تاریخِ اسلام — نجیب آبادی — حضرت عمر کا حضرت ساریہ کے لشکر کو ایک پہاڑ کے قریب گھات میں آنے کا کشف؛ مدینہ سے دی گئی وارننگ جلد 1 · صفحہ 374–375