مارية القبطية

حضرت ماریہ قبطیہ

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
ولادت
تقریباً 610 عیسوی
وفات
637 عیسوی · 16 ہجری
قبیلہ
قبطی (مصر)
زمرہ
اہلِ بیت

نبی کریم ﷺ کے گھر کی مصری خاتون

حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا مصر کی قبطی خاتون تھیں، جنہیں مصر کے حکمران مقوقس نے دیگر ہدایا کے ہمراہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بطورِ تحفہ روانہ کیا۔ 1 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 247 — نجیب آبادی — مصر کے مقوقس نے حضرت ماریہ کو دیگر ہدایا کے ہمراہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔

حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ

مدینہ منورہ میں حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی — جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاحضرت خدیجہ بنت خویلدرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَانبی کریم ﷺ کی پہلی زوجہ اور سب لوگوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والیMothers of the Believers · Ahl al-Bayt · Early Converts کے بچوں کے بعد آپ ﷺ کی واحد اولاد تھے — یہ 8 ہجری کا واقعہ ہے؛ نبی کریم ﷺ نے ان کی ولادت پر خوشی فرمائی اور ان کا عقیقہ فرمایا، تاہم حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بچپن ہی میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا اس کے بعد بھی عزت کے ساتھ زندہ رہیں، یہاں تک کہ 16 ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہحضرت عمر بن الخطابرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُدوسرے خلیفہ؛ الفاروق، جنہوں نے اسلامی ریاست کو وسعت بخشیKhulafa Rashidun · Ashara Mubashara · Muhajirun کی خلافت کے دور میں آپ نے وفات پائی، اور جنت البقیع میں سپردِ خاک ہوئیں۔ 2 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 3 · pp. 373 — ادریس کاندھلوی — حضرت ماریہ، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ؛ ان کی 16 ہجری میں وفات اور جنت البقیع میں تدفین۔

۞

حیات کا خاکہ

تقریباً 610 عیسوی

مصر میں ولادت

قبطی النسل؛ مقوقس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔

7 ہجری

نبی کریم ﷺ کے گھر میں تشریف لائیں

8 ہجری

نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہوئیں

16 ہجری / 637 عیسوی

مدینہ منورہ میں وفات

جنت البقیع میں سپردِ خاک ہوئیں۔

حوالہ جات

  • تاریخِ اسلام — نجیب آبادی — مصر کے مقوقس نے حضرت ماریہ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا؛ آپ سے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی جلد 1 · صفحہ 247
  • سیرتِ مصطفیٰ — ادریس کاندھلوی — حضرت ماریہ، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ؛ ان کی 16 ہجری میں وفات اور جنت البقیع میں تدفین جلد 3 · صفحہ 373