عامر بن الأكوع

حضرت عامر بن الاکوع

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ولادت
تقریباً 590 عیسوی
وفات
629 عیسوی · 7 ہجری
قبیلہ
بنو اسلم
زمرہ
Martyrs

سفر کے گیت

حضرت عامر بن الاکوع رضی اللہ عنہ بنو اسلم کے شاعر مجاہد اور حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہحضرت سلمہ بن الاکوعرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُذو قَرَد کے غزوے کے تیز رفتار ہیروNarrators of Hadith کے چچا تھے۔ خیبر کی طرف رات کے سفر میں آپ کے رجزیہ اشعار لشکر کے آگے گونجتے رہے؛ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہے، اور جب بتایا گیا تو آپ ﷺ نے آنے والے دنوں میں ان کی شجاعت کے لیے دعا فرمائی۔ 1 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 2 · pp. 119–120 — ادریس کاندھلوی — خیبر کے رات کے سفر میں حضرت عامر کے رجزیہ اشعار؛ نبی کریم ﷺ کی دعا۔

دو بدو لڑائی اور دوہرا اجر

قلعہ القاموس میں یہودی پہلوان مرحب نے اشعار میں اپنی شیخی ماری اور حضرت عامر نے اپنے اشعار سے جواب دیا۔ مرحب کی ٹانگ پر وار کرتے ہوئے آپ کی اپنی تلوار پلٹ آئی اور آپ کا گھٹنا کاٹ گئی — اور آپ خیبر میں اسی زخم سے وفات پا گئے۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہحضرت سلمہ بن الاکوعرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُذو قَرَد کے غزوے کے تیز رفتار ہیروNarrators of Hadith کو یہ سن کر دل گرفتہ ہوئے کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ حضرت عامر کے اعمال ان کی اپنی تلوار سے ضائع ہو گئے؛ لیکن نبی کریم ﷺ نے انہیں ڈانٹا: “جو ایسا کہتا ہے وہ جھوٹ کہتا ہے۔ وہ تو بہترین مجاہد تھے۔” اور دو انگلیاں اٹھا کر ارشاد فرمایا: “ان کے لیے دوہرا اجر ہے۔” 2 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 2 · pp. 120–121 — ادریس کاندھلوی — حضرت عامر کی مرحب سے دو بدو لڑائی؛ تلوار پلٹ کر ان کی شہادت کا سبب بنی؛ نبی کریم ﷺ کے الفاظ 'دوہرا اجر'۔

۞

حیات کا خاکہ

تقریباً 590 عیسوی

بنو اسلم میں ولادت

حضرت سلمہ بن الاکوع کے چچا۔

7 ہجری

خیبر کی طرف کوچ کے دوران رجزیہ اشعار پڑھے

7 ہجری

خیبر میں مرحب سے دو بدو لڑائی میں شہادت پائی

حوالہ جات

  • سیرتِ مصطفیٰ — ادریس کاندھلوی — خیبر کے سفر میں حضرت عامر کے رجزیہ اشعار؛ مرحب سے دو بدو لڑائی؛ نبی کریم ﷺ کا انہیں شہید اور دوہرے اجر والا قرار دینا جلد 2 · صفحہ 119–121