أبو بكرة الثقفي

حضرت ابو بکرہ ثقفی

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ولادت
تقریباً 600 عیسوی
وفات
671 عیسوی · 51 ہجری
قبیلہ
ثقیف کے مولیٰ (طائف)
زمرہ
راویانِ حدیث

طائف میں آزاد ہوئے

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ طائف میں ایک غلام تھے۔ شہر کے محاصرے کے دوران نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا کہ جو غلام بھی ان کی طرف نکل آئے، وہ آزاد ہے — اور کچھ غلام، جن میں حضرت ابو بکرہ شامل تھے، نیچے اتر آئے اور انہیں اسلام میں اپنی آزادی حاصل ہوئی۔ 1 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 3 · pp. 84–85 — ادریس کاندھلوی — محاصرہ طائف میں نبی کریم ﷺ ان غلاموں کے لیے آزادی کا اعلان فرماتے ہیں جو ان کی طرف نکل آئیں۔

امت کے ایک راوی

آپ بصرہ میں آباد ہوئے اور نبی کریم ﷺ کے فرامین کے کثیر راوی بنے — ان میں نبی کریم ﷺ کی مسیلمہ کے بارے میں عظیم جھوٹوں میں سے ہونے کی تنبیہ، اور دجال کے بارے میں اور مدینہ منورہ کی حفاظت کے بارے میں آپ ﷺ کے ارشادات شامل ہیں۔ 2 حیاتُ الصحابہ · Vol 3 · pp. 424 — کاندھلوی — حضرت ابو بکرہ نبی کریم ﷺ کی مسیلمہ اور دجال کے بارے میں تنبیہ نقل فرماتے ہیں۔ آپ نے بصرہ ہی میں وفات پائی۔

۞

حیات کا خاکہ

تقریباً 600 عیسوی

طائف میں ایک غلام

8 ہجری

محاصرہ طائف میں آزاد ہوئے

ان غلاموں میں سے جو نبی کریم ﷺ کی طرف نکل آئے۔

نبی کریم ﷺ کے بعد

بصرہ میں آباد ہوئے؛ ایک مشہور راوی

51 ہجری / 671 عیسوی

بصرہ میں وفات

حوالہ جات

  • سیرتِ مصطفیٰ — ادریس کاندھلوی — محاصرہ طائف میں نبی کریم ﷺ ان غلاموں کے لیے آزادی کا اعلان فرماتے ہیں جو نکل آئیں، اور کچھ نکل آتے ہیں جلد 3 · صفحہ 84–85
  • حیاتُ الصحابہ — کاندھلوی — حضرت ابو بکرہ نبی کریم ﷺ کی مسیلمہ اور دجال کے بارے میں تنبیہ نقل فرماتے ہیں جلد 3 · صفحہ 424